شعور و آگہی کے پاس آئی
اُجالے، روشنی کے پاس آئی
حقیقت سے اُٹھانے ایک پردہ
اجل ہے زندگی کے پاس آئی
بُرائی پھر کسی بنگلے کی کرنے
ہے غُربت جھونپڑی کے پاس آئی
جو گزرا وقت تھا سب یاد آیا
اچانک جب گھڑی کے پاس آئی
جہاں بچپن کی یادیں گُھومتی ہیں
میں چل کر اس گلی کے پاس آئی
وڈیرے کی زمینوں سے وہ آخر
اندھیری کوٹھڑی کے پاس آئی
مجھے فن سیکھنا تھا اس لیے میں
عروضِ شاعری کے پاس آئی
ہوئی محسوس کاجل اس کی خوشبو
میں پھولوں کی لڑی کے پاس آئی
سمیرا سلیم کاجل
No comments:
Post a Comment