جب میں آزاد ہوئی
جب میں آزاد ہوئی
روپوش یا رو برو
بِن بلائے
وہ ہمیشہ سے یہیں تھا
میرے کمرے کی دیواروں پہ
میرے بستر کے نیچے نم فرش پر
دیمک کی طرح رینگتا رہا
میری خوشیوں کو نِگلتے ہوئے
مجھے اندر سے کھوکھلا کرتے ہوئے
ہر گزرتے دن بڑھتا ہی گیا
لیکن مِرے چہرے پر ثبت
اپنے لیے نفرت کی
اسے خوب خبر تھی
سو میری آنکھوں میں دیکھنے کی
اسے جرأت نہ ہو سکی
پھر ایک دن
اسے روندتے ہوئے
میں جال سے نکلی اور اُڑ گئی
اور وہی وہ دن تھا
کہ ایک بار پھر سے
میں نے جنم لیا
سروش لطیف
اردو ترجمہ: نودان ناصر
No comments:
Post a Comment