Tuesday, 23 November 2021

آئینہ دیکھتا رہتا ہے سنورنے والا

 آئینہ دیکھتا رہتا ہے سنورنے والا

کون اب ہو گا یہاں پیار پہ مرنے والا

کس کی چاہت کا بھرم رکھتا ہے دل میں اپنے

تیری خاطر نہیں کوئی بھی مرنے والا

بزم سے اٹھنے سے پہلے یہ ذرا سوچ بھی لے

خواب بن جائے گا نظروں سے گزرنے والا

ہر گھڑی وہ بھی تو لوگوں کی طرح ہیں رہتا

پہلے سمٹا تھا کہا خود سے بکھرنے والا

ہم نہیں کہتے یہ حالات بتاتے ہیں ہمیں

کب سکوں پاتا ہے حالات سے ڈرنے والا

گردشیں وقت سے کہتا ہے کوئی جا کے کرن

ایک لمحہ بھی نہیں پاس ٹھہرنے والا


کویتا کرن

No comments:

Post a Comment