Tuesday, 23 November 2021

قلم چلے تو اصولوں کا احترام ہوا

قلم چلے تو اصولوں کا احترام ہوا

پھر ایسی جنگ چھڑی، سب کا قتلِ عام ہوا

کچھ اس طرح سے بھی میراث ہو گئی تقسیم

خوشی تمہارے لیے، درد میرے نام ہوا

کھسک رہی تھیں سبھی منزلیں قدم بہ قدم

یہ تجربہ بھی سفر میں ہر ایک گام ہوا

سنا ہے شہر میں عزّت مآب آئے تھے

تو کیسی دھوم مچی، کیسا تام جھام ہوا؟

عجب ہوس کا پرندہ تھا، پھڑپھڑاتا تھا

میں جانتا ہوں وہ کن مشکلوں سے رام ہوا


رؤف خلش

No comments:

Post a Comment