Wednesday, 3 November 2021

سر رہ وہ اچانک مل گیا ہے

 سرِ رَہ وہ اچانک مِل گیا ہے

دریدہ زخم جیسے سِل گیا ہے

وہ مُسکایا تو موسم فُرصتوں کا

گُلستاں میں دوبارہ کِھل گیا ہے

اُسے میں کس طرح معصوم کہہ دوں

مِرے سینے سے لے جو دِل گیا ہے

بچھڑتے وقت اُس نے یہ نہ سوچا

کوئی اندر سے کتنا ہِل گیا ہے

اُسے میں یاد بھی آتا تو کیسے

جسے مجھ سے بھی بہتر مِل گیا ہے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment