Wednesday, 3 November 2021

یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھے

 یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھے

ہر شام سے ملی ہے نویدِ سحر مجھے

میں تھا جو حد جسم سے آگے نہ بڑھ سکا

وہ لے گیا بدن سے مِرے چھین کر مجھے

میں ضائع ہو چکا ہوں بہت کھیل کھیل میں

اے وقت! اب نہ اور لگا داؤ پر مجھے

میرے لیے قضا ہے ابھی دائمی حیات

کچھ لوگ چاہتے ہیں ابھی ٹوٹ کر مجھے

ہونا ہے معتبر مجھے اپنی نگاہ میں

کب اعتبار بخشے گی تیری نظر مجھے

میری طرح ندیم اسے ہچکیاں نہ آئیں

جو سوچتا ہے رات کے پچھلے پہر مجھے


ندیم فاضلی

No comments:

Post a Comment