Wednesday, 1 December 2021

لمحے بدل گئے نہ زمانے بدل گئے

 لمحے بدل گئے، نہ زمانے بدل گئے

کیسے یہ زندگی کے فسانے بدل گئے

یہ تو نہیں کہ کھیتوں کے دانے بدل گئے

پھر کیوں یہ پنچھیوں کے ٹھکانے بدل گئے

اندازِ بے وفائی جو کل تھا وہ اب بھی ہے

ہے فرق صرف یہ کہ بہانے بدل گئے

تحقیقِ جرم خود ہے اسی کی تلاش میں

منصف بدل گئے ہیں کہ تھانے بدل گئے

کالی اندھیری رات میں کوؤں کے شور سے

پُختہ شکاریوں کے نشانے بدل گئے

تتلی ہو، گُل ہو، بادِ صبا ہو، کہ ہو بہار

کردار سب وہی ہیں فسانے بدل گئے

ٹی وی نے اس صدی کو وہ تہذیب دی ہے آج

لفظ و بیاں کے ڈھنگ سہانے بدل گئے

ضد میں ہر اک لباس کا موسم بدل گیا

بچے بدل گئے، نہ سیانے بدل گئے

دھاگا وہی ہے دھاگے کی بندش وہی مجاز

حیرت ہے کس طرح سے یہ دانے بدل گئے


مجاز انصاری

نیاز احمد 

No comments:

Post a Comment