Wednesday, 1 December 2021

اس نے کتنا خیال رکھا ہے

 اس نے کتنا خیال رکھا ہے

میری یادوں کو پال رکھا ہے

بے سبب یاد بھی نہیں کرتا

اس نے حیرت میں ڈال رکھا ہے

کوئی بہتر جواب دے دینا

لب پہ حرفِ سوال رکھا ہے

اس کو بھولوں کہ یاد رکھوں میں

دل نے مشکل میں ڈال رکھا ہے

ہو نہ جاؤ عروج سے مغرور

یوں خدا نے زوال رکھا ہے

اس شکاری کو بھول مت جانا

جس نے رستے میں جال رکھا ہے

اب سہارا ہے بس ہواؤں کا

میں نے خود کو اچھال رکھا ہے

اس کی یادوں نے ہی حلیم اب تک

ربط اس سے بحال رکھا ہے


عبدالحلیم گونڈوی

No comments:

Post a Comment