اس کو بدن کے ساتھ مِرا دل بھی چاہئے
سرخی لبوں کی، گال کا یہ تل بھی چاہئے
تھک تھک کے چل رہے ہیں رہِ زیست پر قدم
جینے کے واسطے انہیں منزل بھی چاہئے
کشتی نظر کی پار لگائیں تو کس طرح
بحرِ وفا میں پیار کا ساحل بھی چاہئے
ہاں رازِ دل ہواؤں کی زد میں نہیں مگر
اس بار تو چراغ کو محفل بھی چاہئے
صحرا میں صرف تیز ہواؤں کا شور کیوں
لیلیٰ کو قیس، قیس کو محمل بھی چاہئے
دانشورو! خدا کے لیے یہ بھی سوچنا
دل کے لیے دماغ نہیں دل بھی چاہئے
پھر رہبروں کو گھور رہی ہے یہ زندگی
پھر زندگی کو کیا لگے بسمل بھی چاہئے
منزل کو راہ، راہ کو منزل بھی چاہئے
اس عشقِ نو کو جذبۂ کامل بھی چاہئے
غزلیں سنائے کیسے تبسم بتائیے؟
معیار کی اسے کوئی محفل بھی چاہئے
تبسم رضوی
No comments:
Post a Comment