برگِ آوارہ سے منزل کا پتا پوچھتی ہے
تجھ کو جانا ہے کہاں مجھ سے ہوا پوچھتی ہے
کیسی لگتی ہے مِری قید بتا پوچھتی ہے
زندگی مجھ سے حراست کا مزا پوچھتی ہے
برگ آوارہ کی اپنی کہاں منزل کوئی
کیسی پاگل ہے ہوا مجھ سے کیا پوچھتی ہے
میں سمجھتا تھا تجھے اس کی خبر ہو شاید
مجھ سے تو بادِ صبا کس کا پتا پوچھتی ہے
طے شدہ وقت پہ آ جاتی ہے دروازے پر
موت انسان سے کب اس کی رضا پوچھتی ہے
جس کی مخمور نگاہوں کا نشہ تھا مظہر
اب تلک پیاس مِری اس کا پتا پوچھتی ہے
مظہر قریشی
No comments:
Post a Comment