Wednesday, 1 December 2021

میرے دل میں اگتی پیار کی فصل

 خود رُسوا


میرے دل میں اُگتی پیار کی فصل کو

جب لوگوں کی نفرت کے فُضلے کی کھاد ملی

تو سِٹے چمک کر سونا ہو گئے

پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیا 

تو میرے خلوص کی درانتی کُند ہو گئی

اور دل شکم کے آنسوؤں سے بھر آیا

درانتی خوب چلائی گئی لیکن فصل نہ کٹی

میرے ہاتھوں پر کیچڑ لگا ہوا تھا

سِٹے نیلے ہو چکے تھے

محبت نے خلوص کے ساتھ نیت کو اٹھا کر 

نفرت کے فُضلے پہ پٹخ ڈالا

اور درد نے محبت کے اُپلے 

ناف پر تھاپنا شروع کر دئیے


تبسم ضیا

No comments:

Post a Comment