Friday, 24 December 2021

کوئی خواب ماہی

 کوئی خواب ماہی


تجلی کی کرنوں سے کچھ رونمائی

کہ نیندوں کے باغوں تلک ہو رسائی

مگر اس سے پہلے

جوانی کے پنگھٹ پہ جمنے نہ پائے

اداسی کی کالک، بڑھاپے کی کائی

رقابت کی گلیوں میں آنے نہ پائے

کوئی رو سیاہی

ذرا اس سے پہلے

کہ دیوارِ جاں میں دراڑیں نہ آئیں

کہیں خستہ تن ہو کے گِر ہی نہ جائے

جو مامور ہے روح پر جسم کا

اک شکستہ سپاہی

کسی نے کہاں جھانکا ویرانیوں میں

اداسی کی جانب توجہ دِلائی

کئی سال بِیتے، کئی قرن گزرے

وہ آواز آئی

کہ جس نے ہمیشہ کے جاگے ہوؤں کو

مئے نَو پلائی

پہاڑوں کے مالک

توجہ کے دریا سے بس ایک رائی

جدائی کی قسمت میں لکھ دے تباہی

اداسی کے آنگن میں برسوں

محبت نے چکّی چلائی

گھٹن عود آئی

کہ ہم نے بچھڑنے سے آغاز کر کے خدا سے

مقدر کی ترتیب اُلٹی کرائی

سفر کر رہی تھی لگائی بُجھائی

اِدھر بے اثر تھی ہماری دُہائی

ہمیں ایک دل میں جگہ چاہیۓ تھی

نہیں چاہیۓ تھی یہ ساری خدائی


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment