Friday, 24 December 2021

اداس پل میری سانسوں کے چھین لے کوئی

 اداس پل میری سانسوں کے چھین لے کوئی

یہ خار بھی میری راہوں کے چھین لے کوئی

خراب کر کے جو عادت یہ چھوڑ دیتے ہیں

سکون بے وفا بانہوں کے چھین لے کوئی

یہ مجھ کو یاد دلاتے ہیں تیرے چہرے کی

یہ رنگ روپ گلابوں کے چھین لے کوئی

گھٹن گھٹن ہے، تعفن زدہ یہ بستی ہے

سیاہ دور رواجوں کے چھین لے کوئی

اگر نصیب یہ محتاج ہے لکیروں کا

تو یہ نقوش بھی ہاتھوں کے چھین لے کوئی

زہر ہی زہر ہے خوشرنگ قبا کے پیچھے

یہ پیرہن تیرے لفظوں کے چھین لے کوئی


عامر معان

No comments:

Post a Comment