Friday, 24 December 2021

نہیں تھا زخم تو آنسو کوئی سجا لیتا

 نہیں تھا زخم تو آنسو کوئی سجا لیتا

کسی بہانے غمِ آبرو بچا لیتا

خبر نہ تھی کہ سیاہی کا جال پھیلے گا

لہو کی آگ سرِ شام ہی جلا لیتا

زباں پہ حرف بھی آیا جنوں کا پتھر بھی

میں بے لباس تھا کس کس کا آسرا لیتا

جگا دیا تھا دکھوں کے جلوس نے ورنہ

میں آج دامنِ شب تاب سے ہوا لیتا

پلٹ گیا کوئی لمحہ ٹھٹھک گئے ہیں قدم

کوئی جو ساتھ نبھاتا مِری دعا لیتا

یہ کل کی بات نہیں آج کی کہانی ہے

وہ آج زخم نہ ہوتا تو میں چھپا لیتا

نہ جانے کون سی منزل مِرا مکاں ہوتی

کہ میں وجود کی گٹھری اگر اٹھا لیتا


رشید نثار

No comments:

Post a Comment