Monday, 21 February 2022

چاندنی بن کے جگمگاؤ تم

 چاندنی بن کے جگمگاؤ تم

میری پلکوں پہ جھلملاؤ تم

میری تنہائیاں غزل بن جائیں

اتنی شدت سے یاد آؤ تم

چاند دن میں نکل پڑا کہ نہیں

آئینہ دیکھ کر بتاؤ تم

دل نہیں ہوں کہ ٹوٹ جاؤں گا

شوق سے مجھ کو آزماؤ تم

اشک آنکھوں کے نور ہوتے ہیں

اتنا نظروں سے مت گراؤ تم

پیار کے پھول زخم دیتے ہیں

اور کہتے ہیں مسکراؤ تم

بال اس نے فراق کھول دئیے

تھامو کاغذ، قلم اٹھاؤ تم


فراق جلالپوری

No comments:

Post a Comment