چاندنی بن کے جگمگاؤ تم
میری پلکوں پہ جھلملاؤ تم
میری تنہائیاں غزل بن جائیں
اتنی شدت سے یاد آؤ تم
چاند دن میں نکل پڑا کہ نہیں
آئینہ دیکھ کر بتاؤ تم
دل نہیں ہوں کہ ٹوٹ جاؤں گا
شوق سے مجھ کو آزماؤ تم
اشک آنکھوں کے نور ہوتے ہیں
اتنا نظروں سے مت گراؤ تم
پیار کے پھول زخم دیتے ہیں
اور کہتے ہیں مسکراؤ تم
بال اس نے فراق کھول دئیے
تھامو کاغذ، قلم اٹھاؤ تم
فراق جلالپوری
No comments:
Post a Comment