Sunday, 20 February 2022

اے افلاک نشینو آخر کب تک خیر مناؤ گے

 اے افلاک نشینو! آخر کب تک خیر مناؤ گے

وقت کا دھارا آیا تو تنکوں کی طرح بہہ جاؤ گے

تم معقول صحیفے پڑھ کر پھر انساں کہلاؤ گے

کپڑے چھین کے مُردوں سے جب زندوں کو پہناؤ گے

آنے والا وقت تمہارے خون کا پیاسا ہے چورو

لوٹ کا مال کہاں تک آخر گھر میں بیٹھ کے کھاؤ گے

صیہونی خونخوار درندے ظلم کا پرچم گاڑ چکے

تم کس عہد میں ابن مریم اس دھرتی پر آؤ گے؟

لالہ رنگ شگفتہ چہرے غربت سے بے نور ہوئے

اے گھنگور گھٹا کے مالک کب ساون برساؤ گے

پھر تاریخیں بھی تمہاری عظمت کے گُن گائیں گی

جب نفرت کی تیز ہوا میں پیار کے دیپ جلاؤ گے

جن کے ذہن مقفل ہوں مجہول عقیدوں سے راہی

اُن کو فہم و فکر کی باتیں تم کیسے سمجھاؤ گے


ریاض راہی

No comments:

Post a Comment