ہوا کی زد پہ لرزاں بادباں ہے
سمندر میں مگر کشتی رواں ہے
پروں کو کاٹ کر کہتا ہے تیری
حدِ پرواز لے اب آسماں ہے
چراغِ آرزو بجھنے لگے ہیں
نظر جس سمت پھیروں بس دھواں ہے
سنبھل کر موجِ دریا کہ ہمارا
سمندر کے کنارے آشیاں ہے
تمہارا ہاتھ ہے ہاتھوں میں جب سے
کوئی شۓ اب نہ حائل درمیاں ہے
ہے يوں تو موسمِ رنگیں بہاراں
تمہارے بن مگر چھائی خزاں ہے
ہے آمد کس پری پیکر کی الماس
فلک کا چاند کس پر ضو فشاں ہے
الماس کبیر جاوید
No comments:
Post a Comment