نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیا
زمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا
بہاؤ لایا ہے اس کو کنارے کی جانب
وہ شخص میری طرف تیرتا نہیں آیا
اک اور بار بچھڑ کر نہ دیکھ لیں دونوں
یہ زخم اب بھی ہمیں ایک سا نہیں آیا
ہزار کوششیں کر لیں زمانے بھر نے مگر
میری نظر سے اسے دیکھنا نہیں آیا
ہمارا حق ہی نہیں ہے کہ اب دہائی دیں
گئے ہووں کو اگر روکنا نہیں آیا
برابری کا تصور نہیں ہماری طرف
ہمارے جیسا کوئی دوسرا نہیں آیا
دانش نقوی
No comments:
Post a Comment