Sunday, 20 February 2022

زمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا

 نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیا

زمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا

بہاؤ لایا ہے اس کو کنارے کی جانب

وہ شخص میری طرف تیرتا نہیں آیا

اک اور بار بچھڑ کر نہ دیکھ لیں دونوں

یہ زخم اب بھی ہمیں ایک سا نہیں آیا

ہزار کوششیں کر لیں زمانے بھر نے مگر

میری نظر سے اسے دیکھنا نہیں آیا

ہمارا حق ہی نہیں ہے کہ اب دہائی دیں

گئے ہووں کو اگر روکنا نہیں آیا

برابری کا تصور نہیں ہماری طرف

ہمارے جیسا کوئی دوسرا نہیں آیا


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment