میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا
بغیر تیرے میں زندگانی کا کیا کروں گا
وہ بے دلی ہے کہ کوئی خواہش نہ کوئی ارماں
میں سوچتا ہوں کہ اِس جوانی کا کیا کروں گا
میں جانتا ہوں کہ ساتھ تیرا کہاں تلک ہے
مجھے پتہ ہے میں اس کہانی کا کیا کروں گا
تری محبت کی ہی ضرورت ہے آج مجھ کو
میں بعد مرنے کے نوحہ خوانی کا کیا کروں گا
فیصل محمود
No comments:
Post a Comment