Monday, 21 February 2022

میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا

 میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا

بغیر تیرے میں زندگانی کا کیا کروں گا 

وہ بے دلی ہے کہ کوئی خواہش نہ کوئی ارماں 

میں سوچتا ہوں کہ اِس جوانی کا کیا کروں گا

میں جانتا ہوں کہ ساتھ تیرا کہاں تلک ہے

مجھے پتہ ہے میں اس کہانی کا کیا کروں گا

تری محبت کی ہی ضرورت ہے آج مجھ کو 

میں بعد مرنے کے نوحہ خوانی کا کیا کروں گا


فیصل محمود

No comments:

Post a Comment