زخم کھا کے دل پہ، جیون کا سفر ہوتا رہا
اور آنکھوں میں سمندر کا نگر ہوتا رہا
چاپ تک نہ سن سکے جب دل میں وہ داخل ہوا
دور اب نہ جائے، بس دل کو یہ ڈر ہوتا رہا
گرد رہ رہبر ہوئی اور راستے بچھتے گئے
ہر قدم ہی اب چراغِ رہگزر ہوتا رہا
منزلوں کی جستجو میں راہ پر چلتے ہوئے
یوں لگا کہ ہر ڈگر پر میرا گھر ہوتا رہا
زندگی آسان سے آسان تر ہوتی رہی
ان پہ جب میری تمنا کا اثر ہوتا رہا
لوگ کہتے ہیں؛ یہ دنیا مختنم ہونے لگی
میں کہوں؛ ہرگز نہیں گر سجدہ سر ہوتا رہا
ساجدہ انور
No comments:
Post a Comment