Monday, 21 February 2022

کھوئی کھوئی رات نگاہوں سے اوجھل رہو تم

 کھوئی کھوئی رات


نگاہوں سے اوجھل رہو تم

ہزاروں پردوں کے پیچھے غائب ہو جاؤ

اور دل میں

ایسا سناٹا چھا جائے

جیسا جنازہ نکلنے کے بعد

کسی گھر میں ہوتا ہے

لیکن نہ جانے کیا ہے

کہ جب خواب اور بیداری کے درمیان

کھوئی کھوئی سی

الم ناک بوجھل رات

ختم ہونے کے قریب آتی ہے

اور بے چینی خود

تھکی ہاری بے ہوشی کے

گلے میں باہیں ڈال کر

سو جاتی ہے

انہیں

بھور کے ادھ جگے ادھ سوئے

دھندلکوں میں

ایسا لگتا ہے

کہ میری بند

آنسو بھری

ڈبڈبائی آنکھوں کو

کسی نے ہلکے سے چوم لیا


سجاد ظہیر 

No comments:

Post a Comment