ان کے ہونٹوں پہ لگے صبر کے تالوں کی طرف
تُو نے دیکھا ہے کبھی چاہنے والوں کی طرف
یہ صِلہ دشت ملا تجھ سے رفاقت کا مجھے
خاک اڑ اڑ کے چلی آتی ہے بالوں کی طرف
سچ تو یہ ہے کہ کبھی راس نہ آتے منظر
ہم سیاہ بخت اگر آتے اُجالوں کی طرف
لوگ معلوم ہے انگلی بھی اٹھا سکتے تھے
ہم محبت میں بُرے سوختہ حالوں کی طرف
رُوکھی سُوکھی ہی سہی اپنی کمائی کھائی
ہم نہیں دیکھتے اوروں کے نوالوں کی طرف
ہو بھی سکتا ہے بچاؤ کا وسیلہ ٹھہرے
پھینک دوں تنکا اگر ڈوبنے والوں کی طرف
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment