Wednesday, 23 March 2022

اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں

 اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں

رِند ہوں، میں ذرا نشے میں ہوں

موت ہی میری آخری منزل

میں جنم سے ہی قافلے میں ہوں

جب اڑوں گا، فلک بھی چوموں گا

میں ابھی تک تو گھونسلے میں ہوں

زندگی بھر رہے گا ساتھ ان کا

خوبصورت مغالطے میں ہوں

مسکراتا ہوں اب غموں میں بھی

دوستو! میں بہت مزے میں ہوں

حق پرستی ہے میرا نام دنیش

آج کل صرف آئینے میں ہوں


دنیش کمار

No comments:

Post a Comment