الگ مزاج کے لوگوں سے بات کرنی پڑی
ہم اور لوگ تھے اوروں سے بات کرنی پڑی
اس ایک شخص سے باتوں کا شوق پیدا ہوا
جو ساتھ بیٹھے تھے ساروں سے بات کرنی پڑی
کسی سے ترکِ تعلق سے پہلے خود سے مجھے
طرح طرح کے حوالوں سے بات کرنی پڑی
وہ بے بسی تھی کہ آنکھیں تھیں آسماں کی طرف
تمام رات ستاروں سے بات کرنی پڑی
یہ فاصلہ تھا یا رنجش؟ ذرا بتا تو سہی
کہ میرے بارے ميں لوگوں سے بات کرنی پڑی
پھر آج جاگنے والوں کی آس ختم ہوئی
پھر آج شب انہیں خوابوں سے بات کرنی پڑی
عادل کہاوڑ
No comments:
Post a Comment