Wednesday, 23 March 2022

الگ مزاج کے لوگوں سے بات کرنی پڑی

 الگ مزاج کے لوگوں سے بات کرنی پڑی 

ہم اور لوگ تھے اوروں سے بات کرنی پڑی 

اس ایک شخص سے باتوں کا شوق پیدا ہوا 

جو ساتھ بیٹھے تھے ساروں سے بات کرنی پڑی 

کسی سے ترکِ تعلق سے پہلے خود سے مجھے 

طرح طرح کے حوالوں سے بات کرنی پڑی 

وہ بے بسی تھی کہ آنکھیں تھیں آسماں کی طرف 

تمام رات ستاروں سے بات کرنی پڑی 

یہ فاصلہ تھا یا رنجش؟ ذرا بتا تو سہی 

کہ میرے بارے ميں لوگوں سے بات کرنی پڑی 

پھر آج جاگنے والوں کی آس ختم ہوئی 

پھر آج شب انہیں خوابوں سے بات کرنی پڑی


عادل کہاوڑ

No comments:

Post a Comment