دل سے کچھ بوجھ کو گھٹانا تھا
شعر گوئی تو اک بہانہ تھا
اس نے دیوار سے لگایا ہمیں
جس نے دیوار کو ہٹانا تھا
شور اشکوں کی ہے زباں میں کیا
عشق نے رعب تو دکھانا تھا
بعد مدت کے راز ہم پہ کھلا
صبر تو جبر کا ٹھکانہ تھا
مسکرانا بھی اب محال ہوا
ہائے ایسا بھی وقت آنا تھا
ماں کے قدموں کی دھول لے آیا
حُسن کو آئینہ دکھانا تھا
رات بھر جگنووں نے رقص کِیا
اور انداز والہانہ تھا
نہ ہی جنگل میں قیس اکیلا تھا
نہ وہاں پر کوئی دیوانہ تھا
دل خریدا تھا کس لیے صائم
درد کی تھاپ پر نچانا تھا
صائم علوی
No comments:
Post a Comment