Wednesday, 17 August 2022

دل سے کچھ بوجھ کو گھٹانا تھا

 دل سے کچھ بوجھ کو گھٹانا تھا

شعر گوئی تو اک بہانہ تھا

اس نے دیوار سے لگایا ہمیں

جس نے دیوار کو ہٹانا تھا

شور اشکوں کی ہے زباں میں کیا

عشق نے رعب تو دکھانا تھا

بعد مدت کے راز ہم پہ کھلا

صبر تو جبر کا ٹھکانہ تھا

مسکرانا بھی اب محال ہوا

ہائے ایسا بھی وقت آنا تھا

ماں کے قدموں کی دھول لے آیا

حُسن کو آئینہ دکھانا تھا

رات بھر جگنووں نے رقص کِیا

اور انداز والہانہ تھا

نہ ہی جنگل میں قیس اکیلا تھا

نہ وہاں پر کوئی دیوانہ تھا

دل خریدا تھا کس لیے صائم

درد کی تھاپ پر نچانا تھا


صائم علوی

No comments:

Post a Comment