Thursday, 18 August 2022

غم آئیں تو آنے دو ہم ڈرتے نہیں غم سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


غم آئیں تو آنے دو ہم ڈرتے نہیں غم سے

لَو ہم نے لگا لی ہے سرکارِ دو عالمﷺ سے

کیا پیاس بُجھے میری ساگر ہیں سبھی کھارے

اِک بُوند کا طالب ہوں، اس وادیٔ شبنم سے

پرواز خیالوں نے، ہر دل نے نظر پائی

کیا کیا نہ ملا ہم کو اس حسنِ مجسمﷺ سے

ہم کو بھی بُلا لیجئے اک بار حضوری میں

ناراض ہیں کیوں آقاؐ کیا بھول ہوئی ہم سے

اس ہاتھ پہ اک بوسہ دے پاتے اگر ہم بھی

تو درس وفاؤں کا لیتا یہ جہاں ہم سے

ہم کو تو سرِ محشر بس ایک سہارہ ہے

وہ آپؐ کی دیکھیں گے ہم دیدۂ پُر نم سے

یہ شعر ہیں پنچھی کے گلدستہ عقیدت کا

نہلایا ہے پھولوں کو جذبات کی شبنم سے


سردار پنچھی

کرنیل سنگھ

No comments:

Post a Comment