Wednesday, 17 August 2022

رنج سارے ٹھکانے لگ گئے ہیں

 رنج سارے ٹھکانے لگ گئے ہیں

پھول تحفے میں آنے لگ گئے ہیں

میں نے تعریف کی ہے ہونٹوں کی

آپ تو منہ بنانے لگ گئے ہیں

آپ کے ساتھ ہوں زمانے سے

آپ بھی آزمانے لگ گئے ہیں

آپ دو کوڑیوں کو روتے ہیں

اس پہ میرے خزانے لگ گئے ہیں

تُو حوالہ پرانے وقتوں کا نصیر

اب نئے دوستانے لگ گئے ہیں


عدنان نصیر

No comments:

Post a Comment