عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہے جن کی خاکِ پا رُخِ مہ پر لگی ہوئی
اُنﷺ کی لگن ہے دل کو برابر لگی ہوئی
شاہِﷺ اُمم لُٹائے چلے جا رہے ہیں جام
پیاسوں کی بھیڑ ہے سرِ کوثر لگی ہوئی
زہراؑ، حسینؑ اور حسنؑ کا غلام ہوں
مہرِ علی کی مہر ہے مجھ پر لگی ہوئی
قربان اے خیالِ رُخِ مصطفیٰﷺ تیرے
رونق ہے ایک ذہن کے اندر لگی ہوئی
ٹکر نہ لے نبیؐ کی شریعت سے، ہوش کر
دوزخ میں جھونکتی ہے، یہ ٹھوکر لگی ہوئی
میرا کفن ہو تارِ ادب سے بُنا ہوا
ہو ساتھ التماس کی جھالر لگی ہوئی
یادِ رسولﷺ پاک میں ہر آنکھ تر رہے
اشکوں کی اک سبیل ہو گھر گھر لگی ہوئی
آقاﷺ! بَلائے حِرص و حسد سے بچائیے
پیچھے یہ سب کے ہاتھ ہے دھو کر لگی ہوئی
تکتے ہیں جن کو شمس و قمر رات دن نصیر
اپنی نظر بھی ہے اسیﷺ در پر لگی ہوئی
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment