Monday, 19 September 2022

دل پہ چھالے ہیں لب پہ نالہ ہے

 دل پہ چھالے ہیں لب پہ نالہ ہے

اب یہ وحشت مِرا حوالہ ہے

جیسے پالے ہے ماں اپاہج کو

میں نے ایسے غموں کو پالا ہے

موجِ گِریہ سنبھال رکھے ہے

میں نے خود کو کہاں سنبھالا ہے

تیری فُرقت کے واسطے جاناں

ساری خوشیوں کو میں نے ٹالا ہے

جُھوٹ بولوں تو ہو ندامت کیوں

تیرے سانچے میں خود کو ڈھالا ہے

میں تو نفرت سے بچ رہا تھا مگر

اس محبت نے مار ڈالا ہے

ایک بے درد موج نے مجھ کو

ساحلوں کی طرف اچھالا ہے

ختم ہوتا نہیں جنونِ سفر

پاؤں پڑتا ہر ایک چھالا ہے

اب کے سید یہ دشت ہی میرا

ہم پیالہ ہے ہم نوالہ ہے


سید خرم نقوی

No comments:

Post a Comment