Monday, 19 September 2022

وہ اک نگاہ جو خاموش سی ہے برسوں سے

 وہ اک نگاہ جو خاموش سی ہے برسوں سے

یہ کون جانے وہ کیا کہہ رہی ہے برسوں سے

ہمارے چہروں پہ اب اپنا پن نہیں اُگتا

یہ وہ زمیں ہے جو بنجر پڑی ہے برسوں سے

بدن کا سارا لہو مانگتا ہے وہ اک لفظ

نگاہ ذہن کی جس پر ٹکی ہے برسوں سے

کہاں سے لاؤں وہ تصویر جو بنی ہی نہیں

نظر میں گرد اُڑے جا رہی ہے برسوں سے

مِری نگاہ میں دن ہے مِرے بدن میں ہے رات

مِری کتاب ادھوری پڑی ہے برسوں سے

سمندروں میں کبھی بادلوں کے خیموں میں

اک آگ مجھ کو لیے پھر رہی ہے برسوں سے

کہاں کہاں لیے پھرتی ہے رات کو عابد

وہ اک صدا جو مجھے ڈھونڈھتی ہے برسوں سے


عابد عالمی

No comments:

Post a Comment