مرادوں کا کھنڈر ہے اور میں ہوں
دعائے بے اثر ہے اور میں ہوں
تہی دامن، مگر امیدِ پیہم
ابھی تک بام پر ہے اور میں ہوں
سنا ہے نکلی ہے ان کی سواری
دِیا دہلیز پر ہے، اور میں ہوں
کبھی تو زاویہ ہو گا موافق
ستاروں پر نظر ہے اور میں ہوں
بہت وزنی ہے ارمانوں کی گٹھڑی
حیات مختصر ہے، اور میں ہوں
گُندھے ہیں صبر کے دھاگے میں موتی
بکھر جانے کا ڈر ہے، اور میں ہوں
سرِ تسلیم خم تھا میرے آگے
وہ اب بیداد گر ہے اور میں ہوں
ستم ہر روز نذر اس بے وفا کا
بہ انداز دِگر ہے، اور میں ہوں
نذر فاطمی
No comments:
Post a Comment