دل سے انساں کی بغاوت کیا کہیں
عقل کی اتنی اطاعت کیا کہیں
تجھ سے اوصافِ خدائی آشکار
تجھ کو اے شہکارِ فطرت کیا کہیں
ذرہ ذرہ سجدہ گاہِ مہر و مہ
تیری خاکِ پا کی رفعت کیا کہیں
ہو گئی رنگین ساری کائنات
شوخئ رنگِ محبت کیا کہیں
اپنی ہر لغزش عبادت بن گئی
تیری بخشش کی یہ وُسعت کیا کہیں
تیرے جی اٹھنے سے ہم بھی جی اٹھے
یہ بھی ہے رازِ مشیت کیا کہیں
آج ریحانی! بہارِ زیست ہے
موت کی تجھ سے ہزیمت کیا کہیں
ہینسن ریحانی
No comments:
Post a Comment