آرزوئے رنگ و بو کرتے ہیں ہم
دشت میں کیا جستجو کرتے ہیں ہم
چھینتا ہے جب جہاں ہم سے ہوا
پھندے کو زیبِ گلو کرتے ہیں ہم
آدمی کے جب دل و جاں خاک ہیں
کیوں عبث میں میں تُو تُو کرتے ہیں ہم
اپنی ہستی آپ کرتے ہیں فنا
پیروی جب ہو بہو کرتے ہیں ہم
خارزارِ ہستی میں کیوں صبح و شام
گل کو اپنے روبرو کرتے ہیں ہم
دل ہمارا آسماں جیسا وسیع
بے وفا کی آرزو کرتے ہیں ہم
ہم نہیں شاعر کوئی بس آپ سے
شاعری میں گفتگو کرتے ہیں ہم
تولتے ہیں پہلے دولت ماورا
پھر کسی کی آبرو کرتے ہیں ہم
ماورا عنایت
No comments:
Post a Comment