بڑھاپے میں مجھے الہڑ جوانی یاد آتی ہے
کوئی اک بات تھی برسوں پرانی، یاد آتی ہے
کبھی باتیں جو کی تھیں ہم نے اک پیپل کی چھاؤں میں
کہانی بن گئی ہے،۔ اب کہانی یاد آتی ہے
نہیں وہ بھولتی لمبے بہت ہی بال تھے جس کے
زمیں پر چیز تھی وہ آسمانی، یاد آتی ہے
ہمارے گھر کے شہتوتوں پہ بلبل کا بسیرا تھا
پیالے میں اسے دیتا تھا پانی، یاد آتی ہے
ہوائیں، پھول، پتے ذہن میں اب تک سلامت ہیں
پرندے اور ان کی نغمہ خوانی یاد آتی ہے
وطن کی چاہ میں لکھی ہوئی وہ نظم شاعر کی
جسے میں یاد کرتا تھا، زبانی یاد آتی ہے
گئی قدروں کا اب تک حافظے پر نقش ہے قائم
بہت بھرپور تھی جو زندگانی، یاد آتی ہے
زمینیں تک میں اپنے ملک جا کر بیچ آیا ہوں
مگر جو چیز بھی تھی خاندانی، یاد آتی ہے
بہا کر لے گیا تھا جس کو منگلہ ڈیم کا پانی
مجھے اس گھر کی راجس ہر نشانی یاد آتی ہے
بوٹا خان راجس
No comments:
Post a Comment