سورج نے چیر ڈالا تھا آنچل جو رات کا
تارے بھی گر کے مٹی میں آلودہ ہو گئے
عیاشیوں میں ڈوبے تھے میخوار رات بھر
فسق و فجور کا سبھی فرمودہ ہو گئے
جس نے گزاری رات عبادت کے واسطے
رب کی نگاہ میں وہی محمودہ ہو گئے
نالے جواب لاتے ہیں مومن سنے اگر
ایسے خدا کے بندے تو معدودہ ہو گئے
گزرا ہے دور ایسا ولایت بھی عام تھی
قبروں میں اب وہ لوگ تو آسودہ ہو گئے
قرآن پڑھنے والے یہ زندہ کلام ہے
لبرل کہے صحیفے یہ فرسودہ ہو گئے
دشمن خدا کے بن گئے دیوار آج تو
جمہوریت کی گود میں مولودہ ہو گئے
روٹی کو ہے ترستا عبادت وہ کیا کرے
بے دین زر پرستی میں محدودہ ہو گئے
ڈالا جو سرمہ رمزی نے رب کا کلام کا
پنہاں تھے مدرکات جو افزودہ ہو گئے
معین لہوری رمزی
No comments:
Post a Comment