جب میں پہلی دفعہ فوت ہوا
یہاں دفن کیا تھا خود کو
قبر دیکھ کے
ہنسی نما روتا ہوں
یعنی خوشی کے آنسوں ہوتے ہیں
غم کی ہنسی بھی ہوتی ہے
پہلا وجود مجھے گلے لگاتا ہے
انسانی جسم کی حدت
افسردگی کے گلیشیر کو پگھلا دیتی ہے
اب کیوں مرنا پیارے؟
دودھ شریک، غم شریک نہیں ہوئے
میں اگر بنا بھی تو اس ریل کا انجن
جو مسافروں کو گھر سے دور لے جا رہی تھی
میں اس عورت کا نصیب ہوں
جس کا تین مہینے کا حمل گِر جائے
ایسا سیمنٹ کہ جس سے مکان جُڑے
لیکن گھر ٹوٹ جائے
یا اس دلہے کی گاڑی
جو منزل سے پیشتر
حادثے کا شکار ہو جائے
میں سُن چکا ہوں
کسی لڑکے کو کہتے ہوئے
اماں کی سلائی مشین کا وزن
محشر کے ترازو نہیں اٹھا پائیں گے
ماہی گیر کا بھوکے بچوں کو نیم مُردہ دلاسا
ایک دن اتنا وافر کھانا ہو گا
کشتی کے چپوؤں سے کھائیں گے
اور کسی مزدور کا کہنا
میرا بازو کاٹ لو
دیہاڑی مت کاٹنا
میں کیا ہوں
کمرے میں پانچویں دیوار
پچھلی رات چھڑنے والا درد
غموں میں برکت کی دعا
درخت کی رونے والی آواز
جوان بیوہ کا سُریلا بَین
تتلی کی آنکھ سے نکلا آنسو
کرائے پہ رونے والی مہارت
یا آخری خط جو محبوب تک نہ پہنچ سکا
مجھے فرق سمجھ آ گیا ہے
گم کرنے یا گم ہونے میں
چلے جانے یا جانے دینے میں
غار والے یا مار والے یار میں
مر جانے یا مار جانے میں
زمین پہ جو اتنا پانی ہے
خدا آدم کے بعد کتنا رویا ہو گا
مجھے ہجر کے معنی سمجھ آ گئے ہیں
پہلی موت نے کہا
تیسری موت سے پہلے یاد رکھنا
زندگی، زندگی کی امانت ہے
سہیل کاہلوں
No comments:
Post a Comment