فلمی گیت
دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے
ہم زمانے سے دور جا بیٹھے
بھول کی، ان کا ہم نشیں ہو کے
روئیں گے، دل کو عمر بھر کھو کے
ہائے کیا چیز تھی، لٹا بیٹھے
دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے
دل کو اک دن ضرور جانا تھا
وہیں پہنچا جہاں ٹھکانہ تھا
دل وہی دل جو دل میں جا بیٹھے
دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے
اک دل ہی تھا غمگسار اپنا
مہرباں، خاص رازدار اپنا
غیر کا کیوں اسے بنا بیٹھے
دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے
غیر بھی تو کوئی حسِیں ہو گا
دل یونہی دے دیا نہیں ہو گا
دل پہ کچھ تو یہ چوٹ کھا بیٹھے
دو گھڑی وہ جو پاس آ بیٹھے
راجندر کرشن
No comments:
Post a Comment