Monday, 19 September 2022

تیری دنیا سے ہو کے مجبور چلا

 فلمی گیت 


تیری دنیا سے ہو کے مجبور چلا

میں بہت دور، بہت دور، بہت دور چلا


اس قدر دور کہ پھر لوٹ کے بھی نہ آ سکوں

ایسی منزل کہ جہاں خود کو بھی میں پا نہ سکوں

اور مجبوری ہے کیا اتنا بھی بتلا نہ سکوں


آنکھ بھر آئی اگر اشکوں کو میں پی لوں گا

آہ نکلی جو کبھی ہونٹوں کو میں سی لوں گا

تجھ سے وعدہ ہے کیا اس لیے میں جی لوں گا


خوش رہے تو رہے جہاں، لے جا دعائیں میری

تیری راہوں سے جدا ہو گئی راہیں میری

کچھ نہیں ساتھ میرے، بس ہیں خطائیں میری


پریم دھون

No comments:

Post a Comment