فلمی گیت
میں نے پوچھا چاند سے
کہ دیکھا ہے کہیں
میرے یار سا حسیں
چاند نے کہا، چاندنی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں
میں نے یہ حجاب تیرا ڈھونڈا
ہر جگہ شباب تیرا ڈھونڈا
کلیوں سے مثال تیری پوچھی
پھولوں میں جواب تیرا ڈھونڈا
میں نے پوچھا باغ سے
فلک ہو یا زمیں
ایسا پھول ہے کہیں
باغ نے کہا، ہر کلی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں
چال ہے کہ موج کی روانی
زُلف ہے کہ رات کی کہانی
ہونٹ ہیں کہ آئینے کنول کے
آنکھ ہے کہ مے کدوں کی رانی
میں نے پوچھا جام سے
فلک ہو یا زمیں
ایسی مے بھی ہے کہیں
جام نے کہا، مے کشی کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں
خوبصورتی جو تُو نے پائی
لُٹ گئی خدا کی بس خدائی
میر کی غزل کہوں تجھے میں
یا کہوں خیام کی رباعی
میں جو پوچھوں شاعروں سے
ایسا دل نشیں، کوئی شعر ہے کہیں
شاعر کہیں شاعری کی قسم
نہیں، نہیں، نہیں
آنند بخشی
No comments:
Post a Comment