Sunday, 18 September 2022

یہی نہیں کہ کلائی میری مروڑ گئے

 یہی نہیں کہ کلائی میری مروڑ گئے

شبِ وصال وہ پسلی بھی ایک توڑ گئے

جبھی تو ان کی عیادت سے دل ہوا کھٹا

وہ ایک لیموں میرے زخم پر نچوڑ گئے

انہیں بنایا تھا مہمان ایک شب کے لیے

وہ سارے بکسے اور الماریاں کھکھوڑ گئے

میں کس کے پنجے پہ اپنا لہو تلاش کروں

تِرے گلی گلی کے جو کتے مجھے بھنبھوڑ گئے

چرس پلائی تھی کس نے میرے گواہوں کو

وہ ملزمان میں میرا بھی نام جوڑ گئے

لواحقین کو جانا تھا ایک فنکشن میں

لحد میں نانا کو اکڑوں بٹھا کے چھوڑ 

میں کبھی اک آنکھ نہ بھایا کبھی انہیں جیدی

تبھی وہ جاتے ہوئے دوسری بھی پھوڑ گئے


اطہر شاہ خاں جیدی

No comments:

Post a Comment