عارفانہ کلام منقبت سلام
دل کو غمِ حسینؑ سے تُو روشنائی دے
اے مُنکرِ علیؑ تجھے رستہ سُجھائی دے
مرنے سے پہلے بغضِ علیؑ دفن کر کہیں
ایسا نہ ہو کہ تیری لحد بھی دہائی دے
سچا ہے تو یزید پہ لعنت کے تیر پھینک
یا اپنی بے گناہی کی تُو خود صفائی دے
تُو مجلسِ حسینؑ میں شرکت تو کر کے دیکھ
تُو خود کہے گا؛ مولاؑ مجھے آشنائی دے
کچھ دیر فرض کیجیے یہ مجلسیں نہ ہوں
سارا جہاں حسینؑ کا قاتل دکھائی دے
نسخہ یہ آزمودہ ہے غم سے نجات کا
بس تُو غمِ حسینؑ کو دل تک رسائی دے
مجلس میں ایسے نعرے لگایا کرو نوید
مُنکر کو اس کی گونج لحد تک سنائی دے
نوید حیدر ہاشمی
No comments:
Post a Comment