توحید کا چراغ بجھانا گناہ ہے
باطل کے آگے سر کو جھکانا گناہ ہے
ضد میں ہدف کسی کو بنانا گناہ ہے
حق کو دبا کے یاری نبھانا گناہ ہے
حامی نہیں ہے جن کا خدا کے سوا کوئی
غم دیدہ جو ہیں ان کو ستانا گناہ ہے
لڑتے ہیں جو لڑائی ہمیشہ اصول کی
دامن پہ ان کے داغ لگانا گناہ ہے
کرتے ہیں جو عناد محبت کی آڑ میں
اپنا سمجھ کے دوست بنانا گناہ ہے
دل کھول کے جو آیا ہمارے لیے کبھی
الفت کا یہ چراغ بجھانا گناہ ہے
عالم اگر تمہیں ہو کسی سے کوئی گلہ
ہوں لاکھ عیب پھر بھی بتانا گناہ ہے
عالم فیضی
No comments:
Post a Comment