Sunday, 2 October 2022

سیراب ہے جاں اور وہی تشنہ لبی ہے

عارفانہ کلام، نعت، سلام


سیراب ہے جاں اور وہی تشنہ لبی ہے

کوثر کی کوئی موج مِرے دل میں دبی ہے

گلزارِ تولّا میں الم بھی ہے، طرب بھی

سینچی ہوئی حق سے مِری گلشن طربی ہے

تا صبح رکھو شمعِ تولّا کو فروزاں

یہ پاپ کی دنیا ہدفِ تیرہ شبی ہے

نورس ثمرِ باغِ شہنشاہِ مدینہﷺ

مدحت میں محب لذّتِ شیریں رطبی ہے

جنت کی کلی حق کی کنیزِ ازلی ہے

حسنینؑ کی ماںؑ، جانِ علیؑ، جزوِ نبیؐ ہے

عصمت سے تِری دین کی عصمت ہوئی قائم

اللہ کی رحمت تِری عالی نسبی ہے

ہے آیۂ ناموسِ نبیؐ، بنتِ محمدﷺ

احمدؐ کا وصیؑ حافظِ ناموسِ نبیؐ ہے

اِس گھر سے وفا اجرِ رسولِؐ عربی ہے 

بوذرؓ حسبی، منزلِ سلماںؓ لقبی ہے

گر دل میں حسد، ہاتھ میں نارِ حطبی ہے 

یہ بو لہبی،۔ بو لہبی،۔ بو لہبی ہے

سو کعبہ رخی سے بھی تدارک نہین ممکن 

اس گھر کی طرف پشت بڑی بے ادبی ہے

اس گھر کی نہ ہو ثبت اگر مہر سند پر 

اے مدعی! وہ دین بھی مالِ غصبی ہے

"بے آلِ نبیﷺ ہر کہ در اُفتاد بر افتاد" 

ہشیار کہ یہ حق سے مبارز طلبی ہے

یہ در ہی ہم ایسے نگھروں کا ہے ٹھکانہ 

یاں تک مِرے آنے کا سبب بے سببی ہے

یہ عاجز و لا چار کہ ہے نام کا کرار

اس گھر کا پرستار با اُمّی و ابی ہے

عارض پہ بہت رنگ ہے، جوہر میں ہے اخلاص 

ہو جائے جو صیقل تو یہ شیشہ حلبی ہے


کرار حسین

No comments:

Post a Comment