Sunday, 2 October 2022

وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں

 وہ بے کلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں 

تمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیں

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت 

تمہاری زُلف سے خاطر کو پیچ و تاب نہیں 

پِلانا تول کے بادۂ مغاں خدا کے لیے 

یہ دن شرف کے ہیں میزاں میں آفتاب نہیں 

فرار کیوں نہ ہو ہر روز جاں نثار اک ایک 

حضور! آپ کی وہ دولتِ شباب نہیں 

تمہارے زُلف کی تصویر کیا کرے سیراب 

خطا معاف ہو، ہم تشنۂ سراب نہیں 

تِری خبر کے لیے دیکھتے ہیں سب اخبار

مطالعہ میں کسی کے کوئی کتاب نہیں

نسیم پی گئے اب میکدوں میں ہے کیا خاک 

دوا کے واسطے لندن میں بھی شراب نہیں 


نسیم میسوری

No comments:

Post a Comment