آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
چل چلو وقت کے شاہِ مرداں چلو
اے مِرے ہم نفس جانِ جاناں چلو
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
شہ نشیں کا نشہ اب اترنے لگا
حاصلِ عمر کو وہ ترسنے لگا
مردہ دل میں کہیں دل دھڑکنے لگا
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
شعلہ افگن سے بھرپور ہے ہمنوا
سینہ در سینہ میں زور ہے ہمنوا
پاسِ عہدِ وفا، اور ہے ہمنوا
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
چشمِ بستہ بھی بیدار ہونے لگی
نارِ نمرود گلزار ہونے لگی
بود نابود پر وار ہونے لگی
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
لختِ دل اور جواں تجھ پہ قربان ہے
دل کے وحشت کدہ کی یہ پہچان ہے
چین سے عمر کٹتی نہیں جان ہے
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
یاور حبیب ڈار
No comments:
Post a Comment