مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے
نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے
جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے
گَلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے
اگر ہے حُسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں
کفِ پا سے تمہارے مُنہ ملا لے جس کا جی چاہے
یہ مشتِ استخواں اپنے کسی کے کام میں آئیں
ہُما ہو یا سگِ دلدار، کھا لے جس کا جی چاہے
اگر ہے زندگی باقی تو ہم حسرت نکالیں گے
دل پر آرزو پر خاک ڈالے جس کا جی چاہے
فقیروں کو نہیں کچھ زینت دنیا سے مطلب ہے
میں خوش کمبل میں ہوں اوڑھے دوشالے جس کا جی چاہے
جو روشن دل میں ان کی روشنی چھپتی نہیں ہرگز
مہِ تاباں پہ صاحب خاک ڈالے جس کا جی چاہے
شکایت مجھ کو دونوں سے ہے ناصح ہو کہ واعظ ہو
نہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں سر پھرا لے جس کا جی چاہے
میں ہوں برگِ خزاں افتادہ، میں مردود دہقاں ہوں
گِرا ہوں ان کی نظروں سے اٹھا لے جس کا جی چاہے
نہیں ہوتا کبھی آبِ رواں پر شک نجاست کا
مِرے اشکوں کے دریا میں نہا لے جس کا جی چاہے
چمن میں گُل کے مُرجھانے سے آغا ہو گیا ثابت
بسانِ غُنچہ دم بھر مسکرا لے جس کا جی چاہے
آغا اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment