Monday, 3 October 2022

جب اس نے ہاتھ رکھا تھا فلاں پر

 جب اس نے ہاتھ رکھا تھا فلاں پر

میں قابو رکھ نہیں پائی کماں پر

مِرے باغات سے مالی ہے غائب

سبھی الزام آتا ہے خزاں پر

سبب ہے خودکشی بدنامیوں کا

بھلا کیسے میں جاؤں آسماں پر

وہاں بے فائدہ ہے بحث کرنا

جہالت ڈال دے ڈیرے جہاں پر


تنزیلہ افضل

No comments:

Post a Comment