Sunday, 16 October 2022

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں


کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں

کچھ روز اصولوں کی خاطر

ہم دنیا سے لڑ سکتے ہیں

پھر وقت کے ساتھ ہر شے میں

تبدیلی آ جاتی ہے

پتھر پر سبزہ اگتا ہے

بالوں میں چاندی پکتی ہے

غصہ کم ہو جاتا ہے

بستی کے مہذب لوگوں میں

ہم سنجیدہ کہلاتے ہیں


رشید افروز

No comments:

Post a Comment