نہ مسجدیں نہ شوالے تلاش کرتے ہیں
یہ بھوکے پیٹ نوالے تلاش کرتے ہیں
ہماری سادہ دِلی دیکھو اس زمانے میں
دُکھوں کو بانٹنے والے تلاش کرتے ہیں
مجھے تو اس پہ تعجب ہے عقل کے اندھے
دِیے بُجھا کے اُجالے تلاش کرتے ہیں
کسی کے کام نہ آئے کبھی زمانے میں
اور اپنے چاہنے والے تلاش کرتے ہیں
رہِ وفا میں ابھی دو قدم چلے بھی نہیں
ابھی سے پاؤں کے چھالے تلاش کرتے ہیں
نگاہ رکھتے ہیں ساقی وہ تیری آنکھوں پر
سکونِ دل کے جو پیالے تلاش کرتے ہیں
حنیف راہی
No comments:
Post a Comment