فشارِ زرد
مجھے یہ شوق نہیں کہ میں زمیں کی خاک
آسمان کا ستارہ بن کے جی رہوں
مجھے یہ آرزو نہیں کہ
یہ برگزیدہ ہستیوں کی شکل میں
ملائکِ سپہر عنبریں کی ہمنشیں بنوں
میں اس زمیں کی خاک ہوں
ستارہ بن کے جی نہ پاؤں گی کبھی
مرا یہ خاک خاک جسم
میانِ دشت، سوکھی گھاس کی طرح، اُجاڑ بے بہار ہے
مگر مجھے یقین ہے
نئی بہار کی سُبک قدم صبا
مِرے وجود سے ملے گی
تو میں بھول جاؤں گی
ہر ایک چیرہ دستئ خزاں
کُھلے گا بازیافت کا سنہرا دَر
یہ بازیافت زندگی کی کالی کوٹھڑی کے
بازوؤں میں ہو سکے گی کیا
یہاں تو عشقِ بے مزہ
دھوئیں کے جالے بُن کے
کوٹھڑی کی چھت سے اب زمیں تلک پہنچ چکا
صدا کہاں، کہ حرفِ بے زبان ہیں
وفا کا جسم، زہرِ اجتناب پی کے
مدتوں کا سو چکا
وہ آنکھ جس میں شائبے سے خواب کوئی جاگتا
وہ آنکھ جس میں شائبے سے خواب کوئی جاگتا
وہ آنکھ دُورِ سرزنش کے گھاؤ کھا کے بُجھ گئی
نہ ہونٹ ہیں، نہ حرف ہیں
زباں نہ خواب اور نہ جسم
مگر یہ جاں جو ہچکیوں کی مشکل میں
فشارِ زرد کے سِوا کچھ اور بھی نہیں
بضد ہے بازیافت پر
شاعرہ: فروغ فرخ زاد
اردو ترجمہ: کشور ناہید
No comments:
Post a Comment